نئی دہلی،20؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) نیشنل میڈیکل فورم نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر یوکرین سے نکالے گئے میڈیکل طلبا کو جنگ سے متاثر ماننے کی گزارش کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’’ان طلبا کو مجبوری کا سامنا کرنا پڑا ہے اور دونوں ممالک (روس اور یوکرین) کے درمیان افسوسناک جنگ کے نتیجہ کار ان متاثر طلبا کے لیے مناسب روزگار اور رہنے کے مواقع کا نقصان ہوا اور اس طرح جنیوا سمیلن کے ضمن میں ان طلبا کو جنگ زدہ یا جنگ متاثرہ مانا جانا چاہیے۔‘‘
نیشنل میڈیکل فورم کے سربراہ ڈاکٹر پریم اگروال نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’صرف جنگ زدہ علاقوں سے طلبا کو لانے سے انھیں مدد نہیں ملے گی۔ وہ جنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔ ہمیں ان کی پڑھائی پوری کرانے کے لیے ان کے لیے وَن ٹائم اسپیشل کلاؤز بنانا ہوگا۔‘‘ اگروال نے کہا کہ فورم انھیں جنگ متاثرہ قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں عرضی بھی داخل کرے گا۔
خط میں آگے کہا گیا ہے کہ ’’روس اور یوکرین کے درمیان چل رہی جنگ کے سبب یوکرین کے سبھی شہروں میں زبردست تباہی ہوئی ہے اور لوگوں کی جان چلی گئی ہے، جس سے اس ملک سے ہندوستانی میڈیکل طلبا کی ہجرت ہوئی ہے۔ یہ طلبا جنگ میں شامل نہیں تھے لیکن جنگی علاقے میں مقیم تھے اور اس طرح دشمنی کے بہت زیادہ جوکھم میں تھے۔‘‘
حالانکہ اب انھوں نے اپنی تعلیم اور بہتر روزگار کو حاصل کرنے کا موقع گنوا دیا ہے۔ ایسے میں فورن نے حکومت سے ان مجبوری میں ہجرت کرنے والے طلبا کو جنگ سے متاثر قرار دینے کی گزارش کی ہے تاکہ میڈیکل برادری ان کی ممکن مدد کر سکے۔